بنگلورو، 29دسمبر (ایس او نیوز؍یواین آئی) ریاستی اسمبلی کے سکریٹری ایس مورتی کو بدعنوانی کے الزام میں آج معطل کر دیا گیا۔
سرکاری ذرائع کے مطابق مسٹر مورتی پر 2016-2017 میں سرمائی اجلاس کے دوران فنڈکے غبن کرنے کے الزام کے سلسلے میں اسمبلی اسپیکر رمیش کمار نے پانچ رکنی کمیٹی تشکیل دی تھی۔ مسٹر مورتی پرٹینڈر طلب کئے بغیر کام کو منظوری دینے کا الزام تھا۔ مسٹر مورتی نے اس سلسلے میں کہا کہ وہ بدعنوانی کے کسی معاملے میں شامل نہیں ہیں اور ان کی مدت کار میں کٹوتی کرنے کے مقصد سے ان کے خلاف بدعنوانی کا الزام عائد کیا گیا ہے ۔
مورتی کے خلاف الزامات کی جانچ کمیٹی نے اسپیکر کو جو رپورٹ پیش کی تھی اس میں ان پر بدعنوانی کے بہت سارے الزامات ثابت ہوئے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی ریاستی سی اے جی رپورٹ میں بھی اسمبلی سکریٹریٹ میں ہوئی مبینہ بدعنوانیوں کی تصدیق کی گئی ہے۔ تحقیقاتی کمیٹی میں شامل تمام اعلیٰ عہدیداروں نے ایس مورتی کو بدعنوانیوں کا مرتکب قرار دیا۔اس لئے آج ایس مورتی کو معطل کرنے کے احکامات صادر کردئے گئے۔ اس دوران مورتی نے معطلی کے احکامات کا چیلنج کرنے کااعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہوں نے جو کچھ بھی کیا ہے وہ قانون کے دائرے میں رہ کر کیا ہے۔ یہ الزام غلط ہے کہ اسپیکر کو اندھیرے میں رکھ کر انہوں نے فیصلے لئے ہیں۔
مورتی نے دعویٰ کیا ہے کہ 2016-17 کے دوران لیجسلیچر اجلاس کی کارروائیوں میں مبینہ خرد برد کے الزامات قبل از وقت ہیں۔ اس سلسلے میں ابھی قطعی سی اے جی رپورٹ موصول نہیں ہوئی ہے، انہیں یقین ہے کہ قطعی رپورٹ میں تمام الزامات واپس لئے جائیں گے۔ مورتی نے موجودہ اسمبلی اسپیکر پر الزام لگایا کہ شاید وہ ان سے ذاتی رنجش رکھتے ہیں اسی لئے ان پر مسلسل الزامات لگارہے ہیں۔پچھلے کسی اسپیکر نے کسی سکریٹری کو اس طرح نشانہ نہیں بنایا۔
انہوں نے کہاکہ بغیر ٹنڈر کے ان پر 8.6کروڑ روپیوں کی خریداری کا الزام لگایا ہے جو بے بنیاد ہے، تمام خریداری ٹنڈر کی بنیاد پر ہی کی گئی ہے۔ لیجسلیٹرس ہوم میں سولار پلانٹ کے متعلق انہوں نے کہا کہ لیجسلیٹرس ہوم میں سولار پلانٹ لگانے کی کوئی گنجائش نہیں تھی، لیکن اسپیکر نے اپنے رشتہ داروں کی کمپنی کو ٹنڈر دیا ہے۔ اسپیکر کے اس اقدام پر جب انہوں نے سوالیہ نشان لگانے کی کوشش کی تو اسپیکر ان سے اس کا انتقام لے رہے ہیں۔ مورتی نے کہاکہ بہت جلد وہ وزیر قانون وپارلیمانی ڈاکٹر پرمیشور سے ملاقات کریں گے اور ان کی شکایت متعلقہ وزیر کے سامنے رکھیں گے۔